خرید بک لینک
یوں بھی ہوتا ہے مرے شہر کے ایوانوں میںہاتھ اٹھتے ہی الجھتے ہیں گریبانوں میں مجھ کو راس آ گئی تقدیر کی بے رحم صلیبنام میرا بھی نکل آیا ہے دیوانوں میں واعظو! کیسے بلاتے ہو خدا کی جانبایک دہشت سی ٹپک

برچسب: نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: چهارشنبه 5 تير 1398 ساعت: 21:06

لطیفہ، لطف سے ہے جبکہ لطف لطیفے سے نہیں ہے۔ یعنی ہر لطف دینے والی شے کو لطیفہ کہا جاسکتا ہے مگر ضروری نہیں کہ ہر لطیفہ لطف بھی دیتا ہو۔ اس لیے کہ بعض لطیفے ایسے بھی ہوتے ہیں جن پر بذات خود ہنسی نہیں

برچسب: نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: چهارشنبه 5 تير 1398 ساعت: 21:06

قسم تان سین کے برتن خراش راگوں کی!اور قسم امیر خسرو کے طبلے[1] کی!اس ر وسیاہ کو موسیقی کی اتنی ہی شدھ بدھ ہے جتنی ایک ماہر سیاستدان کو سچائی اور ایمانداری کی ہوتی ہے، مگر آلاتِ موسیقی کی کان پڑی آو

برچسب: نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: چهارشنبه 5 تير 1398 ساعت: 21:06

مرد اور عورت انسانی سماج کی دو اکائیاں ہیں جن کے وجود پر اس سماج کی بقاء موقوف ہے۔ معاشرہ اور سماج جہاں مرد کو اپنی جانب کھینچتا اور اس کے کندھوں پر اپنی طرف سے کچھ ذمہ داریاں عائد کرتا ہے، وہاں ع

برچسب: نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: چهارشنبه 5 تير 1398 ساعت: 21:06

شادی، انسانی زندگی کا وہ حسین اور خوبصورت موڑ ہے جہاں انسان ایک الگ تجربے سے گزرتا ہے۔ خوبصورتیوں اور لطافتوں سے بھرا ہوا انسانی زندگی کا یہ حسین موڑ جہاں نئے جوڑے کو ایک خوبصورت بندھن میں باندھتا ہے

برچسب: نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: چهارشنبه 5 تير 1398 ساعت: 21:06

زندگی! یوں بھی ترے دَر سے اٹھائے گئے ہمایک افسانہ ہوئے اور بُھلائے گئے ہم قصۂ شوق تھے اوروں کو سنائے گئے ہمنغمۂ درد تھے ہر بزم میں گائے گئے ہم اپنے اندر کی تپش نے ہمیں بجھنے نہ دیاجل اُٹھے اور بھی

برچسب: نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: چهارشنبه 5 تير 1398 ساعت: 21:06

خواہشوں کا مول نئیں، جذبات کا بیوپار نئیںیہ ہماری جھونپڑی ہے مصر کا بازار نئیں عشق کے آغاز میں حائل تکلف تھا مگراب ہمارے بیچ میں ایسی کوئی دیوار نئیں ہجرتوں کا اک تسلسل ہے ہمارے پاؤں میںہر قدم پر اک

برچسب: نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: چهارشنبه 5 تير 1398 ساعت: 21:06

خزاں کی رُت میں بھی ہر ایک شاخ پر کھِلے گُلاب دیکھنابڑا کٹھن سا ہو گیا ہے یار! تیرے بعد خواب دیکھنا کئی دنوں سے اس نے اپنی میز پر یہ کام بھی بڑھا لیاکتاب کھولنا اور اس کے بعد صرف انتساب دیکھنا ہمارے

برچسب: نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: چهارشنبه 5 تير 1398 ساعت: 21:06

تشنہ لبی جاں تک آ پہنچی بحرِ طلب پایاب ہواوقت کے گہرے دریاؤں سے کون بھلا سیراب ہوا وہم و گماں کی اس بستی میں فکر و نظر آوارہ ہوئےہستی ایک فسانہ ٹھہری، جیون ایک سراب ہوا ماضی کے صحرا میں اپنی یادوں

برچسب: نویسنده: بهراد دادخواه تاريخ: چهارشنبه 5 تير 1398 ساعت: 21:06

صفحه بندی